بھارت نے کس طرح کشمیر کو جہنم بنایا، مستقبل میں کیا کرنے والا ہے؟ بھارت کی سکھ نہیں بلکہ ہندو اہم شخصیت ہی اپنی ملک کیخلاف اٹھ کھڑی ہوئی

سرینگر(این این آئی)مقبوضہ کشمیرمیں بھاررتی سول سوسائٹی کے رکن ، معروف دانشور اور راجیہ سبھا کے سابق رکن کمل مرار کا نے وادی کشمیرکی موجودہ صورتحال کو خوفناک قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ بھارتی حکومت نے کشمیری عوم کی تمام شہری آزادیوں کو سلب کررکھا ہے۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق کمل مرارکا نے سرینگر میں حریت رہنماؤں میر واعظ عمر فاروق ، شبیر احمد شاہ اوربار ایسو سی ایشن کے اراکین سے ملاقات کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی کی گھر میں مسلسل نظربندی اور انہیں گھر میں دینی اجتماع منعقد کرنے کی اجازت نہ دینے کو انتہائی شرمناک قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ بات شرمناک ہے کہ سید علی گیلانی کی مذہبی آزادی پر بھی قدغن عائد ہے اور انہیں گھر کے اندر بھی مذہبی تقاریب کی اجازت نہیں۔ انہوں نے کہاکہ کشمیر میں اپنے دورے کے دوران وہ سکتے میں رہ گیا،یہاں کوئی جمہوریت نہیں ہے اوربشری اورشہری حقوق کی پاسداری نہیں کی جارہی ہے۔
انہوں نے کہاکہ آپ پرامن احتجاج نہیں کرسکتے اورلوگوں کی آواز کو خاموش کرنے کیلئے طاقت کا غیر ضروری استعمال کیا جارہا ہے۔کمل مرارکا نے بھارتی حکومت اور اسکی کٹھ پتلی انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ انکی پالیسیوں نے کشمیر کو ’’جہنم زار‘‘ بنا دیا ہے، بھارت مستقبل میں بھی کشمیریوں کیلئے اس جہنم زار کو مزید وسیع کر دے گا۔انہوں نے کہاکہ جب انہوں نے بھارت کی جمہوریت کی بات کی تو کشمیریوں نے ان کا مذاق اڑایا۔
انہوں نے کہا کہ اگر چہ جموں وکشمیر کو بھارتی آئین کے تحت خصوصی حیثیت حاصل ہے تاہم مہاراشٹرا اور گجرات کے لوگوں کو کشمیریوں سے زیادہ حقوق حاصل ہیں۔انہوں نے کہاکہ کشمیر میں ہر جانب بھارت کے خلاف غصہ پایاجاتاہے اوربھارت اصل حقائق کا علم ہونے کے باوجود شتر مرغ کی طرح کام لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئی دلی کشمیری عوام کو تھکا دینا چاہتی ہے،تاہم نوجوان نسل اس سے واقف ہے اور انہوں نے عسکریت کا راستہ اپنایا ہے۔
انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیرمیں موجودہ عوامی انتفادہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ کشمیری عوام متحد ہیں اوروہ کوئی بھی نقصان برداشت کرنے کیلئے تیار ہیں۔ بھارتی ذرائع ابلاغ پر تنقید کرتے ہوئے کمل مرارکار نے کہا کہ کشمیریوں کو رقوم کے عوض پتھراؤ کرانے کی انکی کہانیاں لغو ہیں اور یہ صحافت کی بدترین عکاسی ہے کہ میڈیا کشمیر سے متعلق بھارتی عوام کو گمراہ کررہاہے۔انہوں نے واضح کیا کہ مسئلہ کشمیر کو حل کیا جانا چاہے اوراگر بھارت اس میں ناکام ہوا تو صورتحال بے قابو ہوجائے گی۔
دفعہ370کو مکمل طور پر بحالی پر زوردیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ گھڑی کی سوئیوں کو 1947کی طرف موڑنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کشمیریوں کے دل جیتنے میں ناکام ہوا ہے جبکہ دونوں حکومتوں کو اس بات کی صلاح دی کہ موجودہ پالسیوں کا خاتمہ کیا جانا چاہے اور سیاسی لیڈروں کو پر امن سرگرمیوں کی اجازت دی جانی چاہیے۔انہوں نے کہاکہ شہریوں پر ظلم و تشدد ، قتل عام اور انہیں نابینا بنانے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جانا چاہیے۔اس موقعہ پر صحافی سنتوش بھارتیہ نے نیوز چینلوں کی کشمیر سے متعلق پروپیگنڈہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بیشتر بھارتی صحافی سیاسی جماعتوں کے ترجمان بن گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر چہ پرنٹ میڈیا اصل حقائق سامنے لاتا ہے تاہم الیکٹرانک میڈیا کشمیر سے متعلق غلط بیانی کرتا ہے۔انہوں نے بھارتی صحافیوں سے کہاکہ وہ زمینی حقائق جاننے کیلئے کشمیر کا دورہ کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *