’’پاک، چین دوستی زندہ باد‘‘ پاکستان ، چین کیساتھ مل کر خلاء میں کیا کرنے جا رہا ہے؟

pak-china-friendship.jpg

بیجنگ (آئی این پی)ایک صنعت کے واقف حال کا کہنا ہے کہ چین آئندہ دو برسوں میں بیرونی ممالک کے لئے دو ریمورٹ سینسنگ سیٹلائٹس ( مصنوعی سیارے ) چھوڑے گا ، بین الاقوامی خلائی اشتراک عمل کے لئے چین کی واحد مجاز کمپنی چائنا گریٹ وال انڈسٹری کارپوریشن آئندہ سال وینزویلا کا دوسرا ریمورٹ سینسنگ سیٹلائٹ اور 2018ء میں پاکستان کا پہلا ریمورٹ سینسنگ سیٹلائٹ چھوڑے گا۔ یہ بات گریٹ وال کے نائب صدر فو جائی ہینگ نے بتائی ہے۔

ریمورٹ سینسنگ سیٹلائٹ 1پاکستان کی طرف سے آرڈردیا جانیوالا دوسرا چینی سیٹلائٹ ہے اس سے قبل چین نے پاک سیٹ۔1آر کمیونیکیشنز سیٹلائٹ تیار کیا جو کہ 2011ء میں چھوڑا گیا ، چائنا ایرو سپیس سائنس و ٹیکنالوجی کارپوریشن جو کہ گریٹ وال انڈسٹری اور چائنا اکادمی خلائی ٹیکنالوجی کی پیرنٹ کمپنی ہے میں بین الاقوامی شعبہ تعاون کے ڈائریکٹر ہو زونگ من نے کہا کہ سب سے بڑا خلائی ادارہ ترقی پذیر ممالک کیساتھ تبادلوں اور اشتراک عمل کو مستحکم بنانے پر آمادہ ہے تا کہ خلائی ڈیٹا اور ٹیکنالوجیوں سے ان کو فائدہ پہنچ سکے۔

ان کا کہنا ہے کہ دوطرفہ تعاون کے دائرہ کار کے تحت ہمیں خود اپنی صلاحیت کی تعمیر کے سلسلے میں ان کی مدد کر کے خوشی ہو گی۔بین الاقوامی اکادمی آف ایسٹرو ناٹکس کے نائب صدر ہیروکی ماٹسو کا کہنا ہے کہ چین دوسرے ممالک کیساتھ انسان بردار اور روبوٹک سپیس فلائٹ ، خلا میں قائم نیوی گیشن اور ڈیٹا ایپلیکیشن میں اپنے علم اور تجربے کا تبادلہ کر سکتا ہے۔

فو نے 25نومبر کو بیجنگ میں ایک بین الاقوامی فورم کے موقع پر کہا کہ وینزویلا کے ریمورٹ سینسنگ سیٹلائٹ2پراجیکٹ کیلئے تیار ی کا کام پروگرام کے مطابق جاری ہے ، پاکستانی سیٹلائٹ کیلئے معاہدے پر رواں سال کے اوائل میں دستخط کئے گئے تھے اور اس کی تکمیل 2018ء میں کی جائیگی ، یہ دونوں سیٹلائٹس چین کی خلائی اکیڈمی تیار کر رہی ہے ۔

ترقی پذیر ممالک کی اقتصادی و سماجی ترقی کو فروغ دینے کیلئے خلائی بین الاقوامی تعاون کے بارے میں سمپوزیم میں مجموعی طورپر 180خلائی حکام ، سفارتکاروں اور محققین نے شرکت کی ، اس کا اہتمام آسٹروناٹیکل سائنس و ٹیکنالوجی کیلئے چائنا انٹرنیشنل ایکس چینج اور انٹر نیشنل اکیڈمی آسٹرو نا ٹکس کی طرف سے کیا گیا ۔

ریمورٹ سینسنگ سیٹلائٹس کا موسم کی پیشنگوئی کرنا ، زمین کا جائزہ لینا ، زمینی وسائل کا سروے کرنا اور سمندروں کو مانیٹر کرنا ہے۔فو نے کہا کہ چینی سیٹلائٹس کا پہلے سے استعمال کرنے والے دوسرے ممالک میں سے بعض نئے سیٹلائٹس کی خریداری کیلئے ان کی کمپنی کے مذاکرات کررہے ہیں ،روایتی خریداروں کے علاوہ ہم نئے گاہکوں کی تلاش پر بھی بھرپور توجہ مبذول کئے ہوئے ہیں ۔

مثال کے طورپر ہم مشرق وسطیٰ میں خلائی مارکیٹ جس پر امریکہ اور یورپی فرمیں چھائی ہوئی ہیں تو حاصل کرنے کیلئے کوشاں ہیں ، میں فی الوقت اتنا بتا سکتا ہوں کہ ہم نے اس خطے میں خاصی پیشرفت کی ہے ، چین نے نو ممالک جن میں بولیویا ، نائیجریا اور لاؤس شامل ہیں کو گیارہ سیٹلائٹس برآمد کی ہیں۔ یہ بات گریٹ وال انڈسٹری کی طرف سے جاری کئے جانیوالی شماریات میں بتائی گئی ہے۔

فو کا کہنا ہے کہ چینی سیٹلائٹس دو وجوہ کی بنا پر ترقی پذیر ممالک میں مقبول ہو گئے ہیں ، اول یہ مغربی ماڈلوں کی طرف قابل اعتماد ہیں، ثانیاً یہ کہ گریٹ وال انڈسٹری ڈیزائن ، لانچ ، آپریشن اور تربیت کے سلسلے میں ترقی پذیر ممالک کو سلوشن پیکجز فراہم کر سکتی ہے ، وینزویلا کا ریمورٹ سینسنگ سیٹلائٹ2 ، تیسر ا چینی سیٹلائٹ ہے جو کہ 2008ء میں چھوڑے جانیوالے وینی سیٹ۔ 1کمیونیکیشن سیٹلائٹ اور 2012ء میں چھوڑے جانیوالے وینزویلا کے ریمورٹ سینسنگ سیٹلائٹ1 کے بعد اس جنوبی امریکی ملک کیلئے ڈیزائن کیا جانیوالا تیسرا چینی سیٹلائٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *