August 18, 2018

شہباز شریف کی بھائی کی وطن آمد سے قبل خفیہ ڈیل

شہباز شریف کی بھائی کی وطن آمد سے قبل خفیہ ڈیل

لاہور : معروف صحافی سہیل وڑائچ کا دوران پروگرام گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ میاں شہباز شریف مخمصے کا شکار ہیں وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بھی بنا کر رکھنا چاہتے ہیں جب کہ اپنے بڑے بھائی کی حمایت بھی کرنا چاہتے ہیں۔اس لیے شہباز شریف نے درمیانی راستہ اختیار کیا لیکن ا س درمیانی راستے کی کوشش میں ن لیگ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا بلکہ نقصان ہی پہنچا ہے۔
سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ جمعے کو روز نواز شریف کی وطن آمد کے موقع پر ایسا لگ رہا تھا کہ شہباز شریف اور مسلم لیگ ن کی لیڈر شپ نے خفیہ ڈیل طے کر رکھی تھی کیونکہ ن لیگ کی طرف سے ائیرپورٹ جانے کی کوشش ہی نہیں کی گئی۔سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ لاہور ائیرپورٹ اتنا دور تو تھا نہیں کہ ن لیگ کی ریلیاں وہاں پہنچ نہ سکتیں۔
یاد رہے قائد نواز شریف کا استقبال کرنے کے لیے لیگی کارکنان کی ایک بڑی تعداد نے لاہور ائیر پورٹ کا رُخ تو کر رکھا تھا لیکن کوئی بھی لاہور ائیر پورٹ اپنے قائد کے استقبال کے لیے نہ پہنچ سکا۔

مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف بھی اپنے بھائی کے استقبال کے لیے لاہور ائیر پورٹ پہنچنے سے قاصر رہے اور نواز شریف اور مریم نواز کی گرفتاری اور ان کی اسلام آبادروانگی کےبعد شہباز شریف نے ریلی ختم کرنے کا اعلان کیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف ریلی کی قیادت گاڑی میں بیٹھ کر ہی کرتے رہے۔ شہباز شریف اور حمزہ شہباز گاڑی سے باہر ہی نہیں نکلے اور باہر ریلی میں موجود کارکنان انہیں خوب کوستے رہے۔
کارکنان کا کہنا تھا کہ خود شہباز شریف اور حمزہ شہباز ٹھنڈی گاڑیوں میں بیٹھے ہوئے ہیں اور کارکنان باہر شدید گرمی میں ذلیل و خوار ہو رہے ہیں۔۔ریلی میں جہاں مردوں کی تعداد 5 سے ساڑھے 5ہزار تھی وہاں عورتوں کی تعدا د 150سے 200سے زیادہ نہیں تھی۔
یہ خبر جس ویب سائٹ سے لی گئی ہے اس کا لنک یہاں ہے. شکریہ

Related posts