عام انتخابات کیلئے (ن) لیگ کا پارلیمانی بورڈ قائم، 3 کمیٹیاں تشکیل ،جانتے ہیں تمام سرگرمیوں کا مرکز کونسا شہر ہوگا؟

pmln-3.png

اسلام آباد(سی پی پی )مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے عام انتخابات کیلئے مرکزی پارلیمانی بورڈ قائم کر دیا، الیکشن کے لئے تین مختلف کمیٹیاں تشکیل دیدی گئیں، الیکشن کے لئے تمام سرگرمیوں کا مرکز لاہور آفس ہوگا،قومی و صوبائی اسمبلی کے امیدواروں سے انتخابی ٹکٹ کے لئے درخواستوں کی وصولی کا سلسلہ شروع ہوگیا۔نواز شریف کی سربراہی میں قائم مرکزی پارلیمانی بورڈ میں نواز شریف سمیت پارٹی چیئرمین راجہ ظفرالحق،پارٹی صدر شہباز شریف، چاروں صوبائی صدور شامل ہیں، ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ الیکشن سیل کے انچارج زاہد حامد، منشور کمیٹی کے سربراہ احسن اقبال اور

میڈیا کمیٹی کے سربراہ سینیٹر مشاہد حسین سید ہوں گے۔پارلیمانی بورڈ کے ارکان میں چوہدری نثار بھی شامل ہیں جبکہ دیگر ارکان میں سردار ایاز صادق، خواجہ سعد رفیق، امیر مقام، شاہ محمد شاہ، عبدالقادر بلوچ، سردار مہتاب، احسن اقبال، برجیس طاہر و سینیٹر پرویز رشید، مشاہد اللہ خان، خواجہ آصف، اقبال ظفر جھگڑا، بیگم نزہت صادق، انوشہ ر حمن ، بیگم عشرت اشرف شامل ہیں ،پارلیمانی بورڈ کے ارکان کی تعداد حتمی نہیں اس میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔مسلم لیگ (ن)نے الیکشن 2018 کیلئے ٹکٹ فارم جاری کر دئیے، گزشتہ روز ن لیگ اسلام آباد آفس سے 10 امیدواروں نے درخواست فارم وصول کئے ہیں، درخواستیں 25 مئی تک پارٹی سیکرٹریٹ ماڈل ٹان میں جمع ہوں گی ، قومی اسمبلی ٹکٹ کے لئے پارٹی فیس 50 ہزار، صوبائی اسمبلی ٹکٹ کے لئے پار ٹی فیس 30 ہزار روپے مقرر ہے، قومی اسمبلی میں مخصوص نشست کے لئے فیس 1 لاکھ روپے ہوگی، صوبائی اسمبلی میں مخصوص نشست کے لئے فیس 75 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔ مخصوص نشستوں کے لئے مرکزی بورڈ کے علاوہ مختلف کمیٹیاں بھی تشکیل دی جائیں گی ،منشور کمیٹی، الیکشن سیل اور میڈیا کمیٹی کے ارکان ان کمیٹیوں کے سربراہ نامزد کریں گے جس کی حتمی منظوری پارٹی قائد نواز شریف دیں گے۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ انتخابی امیدواروں کے لئے پارٹی وابستگی کا عرصہ، احتجاجی تحریکوں میں حصہ، قربانیاں قیدوبند کی صعوبتیں دیگر تفصیلات فراہم کرنا ضروری ہوں گی، بالخصوص پرویز مشرف کی آمریت اور نواز شریف کی جلاوطنی کے دوران پارٹی کے لئے جدوجہد کو خاص اہمیت حاصل ہوگی، ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ امیدواروں سے حلف لیا جائے گا کہ وہ ٹکٹ نہ ملنے کی صورت میں آزاد حیثیت میں حصہ نہیں لیں گے ، امیدواروں کو ٹکٹ دیتے وقت حلقہ کی صورتحال کو بھی مدنظر رکھا جائے گا مدمقابل امیدواروں کے جائزہ کے بعد حتمی ٹکٹ جاری کئے جائیں گے۔

یہ خبر جس ویب سائٹ سے لی گئی ہے اس کا لنک یہاں ہے. شکریہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *