راحیل شریف نے خود کال کر کے مریم نواز کو مبارکباد دی تھی کہ ڈان لیکس سے آپ کا نام نکال دیا گیا ہے

2-231.jpg

اسلام آباد : نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے معروف صحافی رﺅف کلاسرا نے کہاکہ سوال تو یہ ہے کہ نواز شریف نے سرل المیڈا کو ہی کیوں انٹرویو دیا ؟ انہوں نے کہاکہ ڈان لیکس کے معاملے پر نواز شریف نے قیامت ڈھا دی تھی ، اس وقت نواز شریف وزیر اعظم تھے اور وزیراعظم ہاؤس سے جاری کیے گئے خط میں سفارش کی گئی تھی اور اپنے تئیں ڈان کو اس معاملے میں مجرم پایا گیا تھا۔

نواز شریف کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن میں ظفر عباس کا نام دیا گیا تھا اور ساتھ میں کہا گیا کہ سرل المیڈا کا نام بھی دیا گیا اور کہا گیا کہ ان دونوں کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہئیے وہ تو بعد میں ہم سب نے رولا ڈال دیا تھا کیونکہ ہم سب سرل المیڈا کو جانتے ہیں۔ان کے خلاف نواز شریف نے خود آرڈ ر کیا تھا ، ظفر عباس کے خلاف ،ڈان کے خلاف اور سرل المیڈا کے خلاف۔
اس کے بدلے میں انہوں نے تین لوگوں طارق فاطمی ، مشاہد اللہ ، پرویز رشید کی قربانیاں دی تھیں ، رؤف کلاسرا نے کہا کہ سرل المیڈا کو انٹرویو کے لیے مدعو کرنے کے پیچھے ایک کہانی ہے۔ سرل المیڈا کو انٹرویو دے کران لوگوں کو ایک پیغام دیا ہے جنہوں نے ڈان لیکس کے معاملے میں انہیں ریسکیو کیا تھا ،انہوں نے ان لوگوں کو پیغام دیا ہے جنہوں نے اپنے ٹویٹ واپس لیے تھے۔

نواز شریف کسی کو بھی انٹرویو دے سکتے تھے، لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔کیونکہ انہوں نے ایک پیغام دینا تھا ان کو جنہوں نے ریسکیو کیا تھا کہ جناب آپ نے ٹویٹس واپس لیے، آپ نے بیٹھ کر سیٹلمنٹ کی ۔ جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف سے متعلق ایک خبر آئی تھی ، طارق عزیز نے چھاپی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ڈان لیکس سے مریم کو نکالنے والے جنرل راحیل شریف تھے، جنرل راحیل شریف نے خود فون کر کے مریم نواز کو مبارکباد دی تھی اور کہا تھا کہ آپ کا نام ہم نے ڈان لیکس سے نکال دیا ہے۔
اس کے بدلے جنرل راحیل شریف مدت ملازمت میں توسیع چاہتے تھے ، اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل رضوان اختر بھی اس حق میں تھے کہ راحیل شریف کو مدت ملازمت میں ایک سال کی توسیع دی جائے، کیونکہ ایک سال تک وہ خود اس پوزیشن میں آجاتے کہ وہ آرمی چیف کے عہدے کے لیے منتخب ہو سکتے تھے، جنرل قمر جاوید باجوہ کے خلاف جو نفرت انگیر مہم چلائی گئی تھی اس کی تحقیقات میں جنرل رضوان اختر کا باقاعدہ کردار ثابت ہوا تھا۔
رؤف کلاسرا نے کہا کہ ایک اسٹیج پر جنرل رضوان کا کورٹ مارشل ہونے لگا تھا، جس کے بعد بڑی معافی تلافی کروا کے ان کا استعفیٰ لے کر انہیں بھیج دیا گیاتھا۔ اس کے پیچھے کہانیاں یہی سب تھیں ، جنرل راحیل کو یہی لالچ دی گئی تھی کہ ڈان لیکس سے مریم نواز کا نام نکال دیں گے تو آپ کو توسیع دے دی جائے گی۔ نواز شریف نے سرل المیڈا کو انٹرویو دے کر انہی لوگوں کو پیغام بھیجا ہے۔

ڈان لیکس کے معاملے کے وقت تو ڈان بھی بُرا تھا ، سرل المیڈا بھی بُرا تھا، جبکہ آج انہوں نے اسی سرل کو ایمرجنسی میں بُلوا کر انٹرویو دے دیا ہے۔ حالانکہ یہ انٹرویو لاہور میں بھی ہو سکتا تھا لیکن میاں صاحب کی طبیعت میں بے چینی تھی اور انہوں نے انتظار نہیں کیا اور کہا کہ ابھی کرنا ہے انٹرویو۔ سرل المیڈا کو کسی گورنر کے گھر بٹھا کر وہاں ان کی نواز شریف سے ملاقات کروائی گئی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ایک تو یہ پیغام بھیجا گیا ہے ہمارے ان تمام جرنیلوں کے ، جو ڈان لیکس پر بڑے متحرک تھے۔ جنرل راحیل کو پیغام دیا گیا اور اب جنرل باجوہ کو بھی پیغام گیا کہ آپ نے ٹویٹس واپس لیے تھے، تب ہم بھی ان کے خلاف تھے لیکن آج ہمارا ان کے ساتھ محاذ کھُلم کھُلا ہے۔
یہ خبر جس ویب سائٹ سے لی گئی ہے اس کا لنک یہاں ہے. شکریہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *