سابق وزیر اعظم نواز شریف کا ممبئی حملوں سے متعلق انٹرویو میں متنازعہ بیان

2-208.jpg

اسلام آباد : نواز شریف نے حال ہی میں انگریزی اخبار کو دئے ایک انٹرویو میں ممبئی حملوں سے متعلق ایک متنازعہ بیان دیا جس کے بعد ان کا یہ بیان خبروں کی زینت بنا ہوا ہے۔ قومی اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق سابق وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے ممبئی حملوں سے متعلق انگریزی اخبار کو دئے گئے انٹرویو کی مشاورت میں مریم نواز اور ان کے قریبی بیوروکریٹ ساتھی فواد حسن فواد شامل تھے، نواز شریف ان دنوں عدالتوں میں اپنے خلاف کیسز سے کافی پریشان تھے اور ان کو یقین ہو چلا تھا کہ انہیں احتساب عدالت کی جانب سے سزا سنائی جائے گی ۔

اس لیے انہوں نے متنازعہ انٹرویو دے کر اپنے خلاف زیر سماعت کیسز سےتوجہ ہٹانے کی کوشش کی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ نواز شریف کو مریم نواز اور فواد حسن فواد نے متنازعہ انٹرویو کے لیے قائل کیا۔ نواز شریف ملکی سلامتی کے خلاف بیان کے بعد سوشل میڈیا پر پاکستانیوں کا غم و غصہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ۔ نواز شریف کا بیان سامنے آتے ہی مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر ”غدار نواز” ٹاپ ٹرینڈ رہا۔
واضح رہے مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے دو روز قبل انگریزی قومی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان سے عسکریت پسندوں نےہندوستان میں جاکر ممبئی حملے کیے۔ جس میں 150 لوگ ہلاک ہوئے۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کیا کہ ابھی تک عدالتوں میں انکوائری چل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے معاملات کو ٹھیک کرنے کیلئے ایک حکومت کا ہونا ضروری ہے۔
اس وقت تین متوازی حکومتیں کام کررہی ہیں۔ نوازشریف کے پاکستان مخالف بیان پرسکیورٹی اداروں نے مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف کے ممبئی حملوں کے بیان پروزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے نیشنل سکیورٹی کونسل کا اجلاس بلانے کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا۔ قومی سلامتی کمیٹی نے ممبئی حملوں سے متعلق نواز شریف کے بیان کو مسترد کر دیا۔قومی سلامتی کمیٹی نے عناد کو اجاگر کرنے پر افسوس کا اظہار کیا۔

قومی سلامتی اجلاس کے جاری اعلامیہ میں بتایا گیا کہ اجلاس میں ممبئی حملوں سے متعلق ایک اخباری بیان کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ بیان مکمل طور پر غلط اور مس لیڈنگ ہے۔شرکا نے 12 مئی کو شائع ہونے والے بیان کو متفقہ طور پر غلط اور گمراہ کُن قرار دیا۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ افسوس اور بد قسمتی ہے کہ حقائق کو شکایت کے انداز میں غلط شائع کیا گیا ۔
اس اخباری بیان میں حقائق اور ٹھوس شواہد کو نظر انداز کیا گیا۔۔ممبئی حملوں کی تحقیقات مکمل نہ ہونے کا ذمہ دار پاکستان نہیں بھارت ہے۔ بھارت کی وجہ سے ممبئی حملہ کیس میں تاخیر ہوئی۔ ممبئی حملوں سے متعلق بھارت نے تحقیقات کے لیے شواہد پیش نہیں کیے۔ بھارت نے کسی موقع پر پاکستان سے تعاون نہیں کیا۔۔پاکستان کلبھوشن اور سمجھوتا ایکسپریس پر تعاون کا منتظر ہے۔ حقیقت کو پس پشت ڈال کر جھوٹی اور ذاتی خراعات کو مسترد کرتے ہیں۔ اپنی غلط فہمیوں اور محرومیوں کی وجہ سے رائے دی جا رہی ہے۔
یہ خبر جس ویب سائٹ سے لی گئی ہے اس کا لنک یہاں ہے. شکریہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *