آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے اپنے دونوں بیٹوں کے نام حضرت ابوبکر صدیقؓ کے نام پر رکھنے کی منت کیوں مانی؟ ہر سال پانچ شہری جنرل باجوہ کے ذاتی خرچ پر کیا کرتے ہیں؟ حیرت انگیز انکشافات

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سپہ سالار اپنے آبائی قصبے گکھڑ منڈی پہنچے اور بچپن کی یادیں تازہ کیں اپنے والد کرنل اقبال باجوہ کی لحد پر حاضری دی فاتحہ پڑی۔پاکستان کی بری فوج کی کمانداری بہت بڑا اعزاز ہے جو گکھڑ ’پنڈ‘ کے سپوت کے مقدر میں لکھاتھا۔ یہ اعزاز پاکر بھی یہ خوش بخت فرزند عاجزی وانکساری کی وہی تصویر بنا ہوا تھا۔ معروف کالم نگار محمد اسلم خان اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ بچپن سے لڑکپن، جوانی اور پھر فوجی افسر بننے تک اس کے بزرگ، محلہ دار اور ’’یار بیلی‘‘ عینی شاہد ہیں۔دیہات کی وہی سادگی اور

معصومیت جنرل قمر جاوید باجوہ کے چہرے پر اب بھی چمک رہی ہے۔ جنرل باجوہ سے ملاقات کرنے والے اس سادگی اور بھول پن پر حیران تھے گکھڑ پریس کلب کے صدرمیاں صبیح الرحمن صبی بھی جنرل قمر جاوید باجوہ کے گھگڑ منڈی کے دورے کے دوران ان کے ہمراہ تھے اس بے تکلف ملاقات کے دوران بچپن کے خوبصورت دن مجسم زندہ ہوکر سب کے سامنے آگئے تھے۔ وقت جیسے تھم ساگیا تھا۔ عہدے، مرتبے اور حیثیت کے درجے ان لمحوں میں غائب ہوگئے فضا میں تحلیل ہوچکے تھے۔ عالمی سطح پر دنیا کے طاقتور ترین افراد میں شامل جرنیل کشادہ بازو پھیلائے وسیع سینے سے عمائدین علاقہ کو لگارہا تھا۔ وزیر تو خیر بڑا مرتبہ ہے، رکن قومی اسمبلی سے ملاقات کے لئے مدارج کا خیال رکھنے والوں کے لئے یہ خوشگوار حیرت تھی۔ چوپال سجا تھا۔ اپنایت کے آسودہ ماحول میں مسائل کی یاد آنافطری تھا۔ ’سب سے بڑا مسئلہ سیوریج کا ہے‘۔فریاد بلند ہونے کے ساتھ مزید روشنی ڈالی گئی کہ نئی سیوریج بچھانا ہوگی۔یہ پورے گھکڑمنڈی کے لئے درد سر بنا ہے۔ جنرل باجوہ نے ’پنڈداری‘ نبھائی تھی کہ دوسرا مطالبہ سامنے آگیا۔ گکھڑ منڈی دستکاروں کا قصبہ ہے جس کی‘دریاں’چار دانگ عالم مشہور ہیں۔گکھڑ سپورٹس کے حوالے سے بھی بڑا مشہور رہا ہے۔ قومی کھیل ہاکی کے عالمی شہرت یافتہ کئی مایہ ناز کھلاڑی یہاں پیدا ہوئے۔ عام شکایت ہے

کہ کافی عرصہ سے یہاں سے کھیل کے میدان تقریبا ختم ہوچکے ہیں۔ بری فوج کے سربراہ نے ’سپورٹس کمپلیکس‘ کی تعمیر کا اعلان کیا۔ اندازہ ہے کہ سترہ کروڑ روپے کی لاگت سے بین الاقوامی معیار کا کمپلیکس تعمیر ہوگا۔ گکھڑ کا مقدر جاگا تھا۔ شہر کے بیچ وبیچ منڈی مویشیاں کی منتقلی کا بھی مطالبہ منظورہوگیا۔ بتایاگیا کہ کافی دیر سے لوگ سراپا احتجاج تھے لیکن شنوائی آج ہوئی۔ دلچسپ امر یہ سامنا آیا کہ ’منڈی مویشیاں‘ شہر میں بسانے کے لئے عام تاثر یہ پھیلایاگیا تھا کہ

فوج اس‘‘نیک ’’کام کے پیچھے ہے۔ بری فوج کے سربراہ کے ساتھ ان کے ’شہرداروں‘ کے اکٹھ میں یہ غلط ثابت ہوگیا۔ بعض کا خیال تھا کہ شاید ٹھیکیدار نے یہ ’فنکاری‘ دکھائی ہو۔ غیررسمی بیٹھک میں شریک افرادکا کہناتھا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور فوج کا سافٹ امیج ان کے سامنے آیا۔ ملاقات کرنے والوں کا برجستہ جملہ تھا ’وہ بڑے خوبصورت انسان ہیں‘۔ انہوں نے اپنی یادیں بانٹیں۔ بتایا یہاں ایک (سووا) جسے برساتی نالہ کہتے ہیں،اس میں نہایاکرتاتھا۔ اپنے دوستوں،محلے داروں کے ساتھ گزرا یہ وقت یادگار ہے۔

وہاں ان کا ’کھوہ‘ ہے پنجابی زبان میں اسے ڈیرہ کہتے ہیں۔ اْس وقت ٹیوب ویل نہیں ہوتے تھے بس کنواں ہی ہوتا تھا۔کھوہ‘کھیتی باڑی کے لئے استعمال ہوتا تھا۔ جرنیل نے بتایا کہ وہ کھوہ جاتا۔اپنی زمین پر بھی جاتا تھا اورکام بھی کرتا تھا۔اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلتا تھا۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے مسکراتے ہوئے بتایا کہ مجھے گنے کی ’رو‘ بڑی پسند تھی۔ بچپن میں خوب پیتا رہا ہوں۔ ’گْڑ‘ اور شکر بنانے پر پابند ی لگنے سے پہلے ہمارے علاقے کا ہر زمیندار گنّا یعنی کماد کاشت کیاکرتا تھا۔

موسم کی آمد پر اپنے لئے، رشتہ داروں اور دوستوں کے لئے بھی گڑ بنایاجاتا۔ شکر بھی بنتی۔ بچوں جیسی خوشی کے ساتھ انہوں نے بتایاکہ ’میرے پاس خرگوش ہوتے تھے۔ خرگوشوں کے ساتھ بہت کھیلتا تھا۔ سفید رنگ کے خرگوش۔آج بھی میں انہیں ’مِس‘ کرتا ہوں۔ قصبہ کے لوگوں سے ملاقات کے وقت ان کی فیملی کے لوگ بھی موجودتھے۔اپنے دو صاحبزادوں کو خاص طورپر سب سے ملوایا۔ دو بیٹے سعد صدیق اور علی صدیق ہمراہ تھے انہوں نے بتایا کہ ہم نے منت مانی تھی کہ

اللہ تعالی نے اولاد نرینہ سے نوازا توان کے نام حضرت ابو بکر صدیق کے نام پر رکھوں گا۔بیرسٹری کی تعلیم حاصل کرنیو الے برخوردار کا تعارف کراتے ہوئے کہاکہ ’خدانخواستہ کسی کا مسئلہ ہو تو میرایہ بیٹا بغیر فیس مقدمہ لڑے گا‘۔ ازراہ تفنن کہاکہ ’کیس یہ مفت لڑے گا لیکن ضروری نہیں کہ جیت بھی جائے‘ جس پر بے ساختہ قہقہہ بلند ہوا۔ روایتوں اور مشرقی اقدار میں بندھے جرنیل نے ہر سال تین عمرے اور حج کرانے کا بھی اعلان کیا۔ گکھڑ سے ہر سال پانچ شہری جنرل قمر جاویدباجوہ کے

ذاتی خرچ پر یہ سعادت حاصل کریں گے۔ دیسی مزاج جرنیل نے کہا ’یہ میری محبت ہے اپنے گاؤں کے لئے۔ وہ گاؤں ہی کہتے ہیں، شہر نہیں کہتے۔ اڑھائی گھنٹے یہ محفل کشت زعفران زار جاری رہی۔ روایتی انداز میں بڑے، چھوٹے باہم بیٹھ کر خوش گپیوں میں مصروف یادیں تازہ کرتے رہے۔ دکھ سکھ بانٹتے قہقہتے بکھیرے رہے۔ رشتہ داروں کا بتاتے رہے، حال احوال اور ملنساری ہوتی رہی۔وہ اپنے آبائی گھروں میں بھی گئے۔کھوہ پر جانے کے بھی خواہشمند تھے۔ دہشت گردی کے بارے میں بھی اہم گفتگوہوئی۔

اس بارے میں وہ بہت محتاط تھے۔ کہا کہ ہم نے تیرہ سو مفتیان کرام کو ایک جگہ ایک نکتہ پر جمع کیاہے۔ دہشت گردی اور خود کش بمباروں کے مسئلہ پرمفتیان عظام نے فتوی دیا ہے۔اسلام کی رو سے یہ حرام اور قطعی حرام ہے۔ قرآن عظیم کی آیات مبارکہ کا حوالہ دے کر چارسے پانچ آیات کی تلاوت کی اور احادیث مبارکہ کا بیان کیا۔ سب سے زیادہ زور اتحاد بین المسلمین پر دیا۔ گاؤں کی روایتوں کے امین دراز قد جرنیل کی اخلاص میں گندھی گونجدار آواز میں عزم جھلک رہاتھا۔ کہنے لگے

تمام امت، تمام مسلمان ممالک کو ایک نکتے پر آنا ہوگا۔ وہ اسلامی ممالک میں اختلاف ختم کرانے کے لئے کوشاں ہیں۔ مسلمانوں کے اتحاد کی جستجو کرنے کی بات پر ان کی آنکھوں کی چمک تیز ہوگئی۔ مسلمانوں کا اتحاد ’گریٹ امپیکٹ‘ کا باعث بنے گا۔ ان کی گفتگو میں سب سے زیادہ فکر کی جھلک فرقہ پرستی کے موضوع پر سامنے آئی۔ تشویش لہجے میں درآئی۔ زوردیتے ہوئے گویا ہوئے ’خدارا یہ جو فرقہ پرستی ہے اس کو ختم کریں۔ ایک دوسرے کے قریب قریب آئیں۔ فسادات کو ختم کریں۔پاکستانیت کو فروغ دیں۔

پاکستانیت سب سے پہلے ہے۔ ان کی گفتگو میں عالمی پیغام بھی تھا۔ انہوں نے کہا ’برادر ممالک ایران اور سعودی عرب کے اختلافات ختم کرنے کی کوشش کررہاہوں۔ مسلم مالک میں اختلافات میرے لئے بہت اہم ہیں۔اللہ تعالی نے مجھے ذمہ داری عطا فرمائی ہے کہ امت مسلمہ کے لئے مثبت کردار ادا کروں۔‘ اس دعا پر ہم سب آمین کہیں گے۔دیسی انداز میں میری دعا تو یہ ہے کہ’تیری آواز مکے مدینے۔ محفل میں شامل ایک اور فرد کا تبصرہ تھا کہ ’باجوہ صاحب محفل اور فیملی والے خوش مزاج انسان کا نام ہے۔

کسی لمحے عہدے کا رعب، جاہ وجلال یا مصنوعی پن محسوس نہ ہوا۔‘ ان کی خوشی مزاجی کا سب نے خوب مزہ لیا۔ تصویر بنانے والے نوجوان کی کوشش کامیاب نہ ہوئی تو پنجابی میں مسکراتے ہوئے برجستہ کہا ’مْنڈیآ موبائل ای نوا لیلا۔ وزیرآباد سے آنے چند دوست نے موقع غنیمت جانا اور وزیرآباد کے حوالے سے مسائل کی پٹاری کھول دی۔ روایت پسندی کے عجز کی تصویر جرنیل نے سوالی کو خالی نہ جانے دیا۔ چاول کے زمیندار، ملر، ایکسپوٹرکے مسائل بھی بیان ہوئے۔ مطالبہ کرنے والے دہائی دے رہے تھے کہ ’چاول کو صنعت کے طورپرلیں۔ یہ پاکستان کی بڑی اور نقدآور فصل ہے۔ زرمبادلہ کماتی ہے۔ اسے نظرانداز ہونے سے بچائیں۔ بھارت اور بنگلہ دیش کی طرز پر اقدامات کرنے سے زمیندار کے ساتھ ساتھ ملک کا بھی بھلا ہوگا۔‘ اس بپتا پر جرنیل نے سفارشات دینے کی ہدایت کی۔ دیہات کی قدیم روایت کی یاد یہ چوپال دنیا کی بڑی بڑی عسکری اور معاشی قوتوں کو دہلادینے والی فوج کے سپہ سالار کی شخصیت کا ایک تعارف بن گئی۔ اس میں بچوں کی معصومیت، ماضی سے گہری وابستگی، بڑوں کے لئے ادب آداب، عاجزی وملنساری، محلہ داروں کے لئے دلربائی، دوستوں کے لئے مان، عہدے اور مرتبے سے بے نیازی وانکساری، امت مسلمہ کے لئے درد، پاکستان کے لئے والہانہ محبت اور قوم کے مسائل کے لئے گہری سنجیدگی سب کچھ تھا۔ اپنے گوجرانوالہ کی خوش قسمتی ہے کہ اسکی دھرتی سے ایسا سپوت پیدا ہوا۔

یہ خبر جس ویب سائٹ سے لی گئی ہے اس کا لنک یہاں ہے. شکریہ