خواجہ آصف جس اقامے پر تاحیات نا اہل ہوئے اس کے مطابق وہ یو اے ای کی کمپنی میں کونسی ملازمت کر رہے تھے اور سالانہ یہ کمپنی ان کو کتنے درہم تنخواہ دیتی رہی؟ جان کر آپ بھی اپنا سر پیٹ لینگے

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عثمان ڈار نے اقامہ کی بنیاد پر وزیر خارجہ خواجہ آصف کی نااہلی کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔درخواست گزار کے مطابق خواجہ آصف بیرون ملک ملازمت کرتے رہے اور انہوں نے اقامہ رکھا۔دوسری جانب خواجہ آصف کے وکیل نے
ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے دلائل دیئے تھے کہ ان کے موکل کی جانب سےآمدن اور اثاثوں کی تفصیل نہیں چھپائی گئی۔انہوں نے انٹرنیشنل مکینکل اینڈ الیکٹریکل کمپنی کا ایک خط بھی پیش کیا جس کے مطابق خواجہ آصف کمپنی کے کل وقتی ملازم نہیں بلکہ لیگل ایڈوائزر ہیں اور کمپنی کا نمائندہ ان حقائق کی تصدیق کے لیے پاکستان جا کر عدالت میں پیش ہونے کو تیار ہے۔عدالت عالیہ نے تمام

دستاویزات کا جائزہ لینے کے بعد 10 اپریل کو کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو آج سنایا گیا۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عثمان ڈار کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے وزیر خارجہ خواجہ آصف کو تاحیات نااہل قرار دے دیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل تین رکنی لارجر بینچ نے پی ٹی آئی رہنما کی درخواست پر سماعت کے بعد 10 اپریل کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔لارجر بینچ کے سربراہ جسٹس اطہر من اللہ نے آج خواجہ آصف کی نااہلی سے متعلق متفقہ فیصلہ پڑھ کر سنایا۔35 صفحات پر مشتمل فیصلے کے مطابق خواجہ آصف کو آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہل قرار دیا گیا ہے، جس کے بعد ان کی قومی اسمبلی کی رکنیت بھی ختم ہوگئی۔فیصلے کے مطابق خواجہ آصف کو متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی وزارت محنت کی طرف سے لیبر کیٹیگری کا شناختی کارڈ جاری ہوا اور ملازمت کی وجہ سے ہی انہیں اقامہ بھی جاری ہوا۔عدالتی فیصلے کے مطابق 2013 کے عام انتخابات میں
کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت یہ ملازمت ہی خواجہ آصف کا بنیادی پیشہ تھا۔فیصلے کے مطابق کاغذات نامزدگی داخل کرتے وقت خواجہ آصف کا ملازمت کا معاہدہ موجود تھا، جس کی تصدیق یو اے ای کی حکومت نے بھی کی اور معاہدے کے تحت خواجہ آصف کمپنی معاملات کو خفیہ رکھنے کے پابند تھے۔تحریری فیصلے کے مطابقخواجہ آصف کے معاہدے کے تحت 1 سال میں مسلسل 7 روز غیرحاضری پر خواجہ آصف کی ملازمت ختم

ہوسکتی تھی جبکہ معاہدے کے تحت انہیں ہر ماہ تنخواہ ملتی رہی یہ تنخواہ سالانہ 50ہزار درہم بنتی ہے۔ اور خواجہ آصفنٹرنیشنل مکینکل اینڈ الیکٹریکل کمپنی میں قانونی مشیر کے طور پر فرائض سرانجام دئیے۔ نے اسے تسلیم بھی کیا۔عدالتی فیصلے کے مطابق ملازمت ظاہر کرنے سے خواجہ آصف کے لیے مفادات کے ٹکراؤ کا معاملہ اٹھایا جاسکتا تھا، یہی وجہ ہےکہ کاغذات نامزدگی کے کالم 8 میں انہوں نے لفظ ‘کاروبار لکھا تھا۔فیصلے
میں خواجہ آصف کی ملازمت سے متعلق 3 کنٹریکٹ بھی منسلک کیے گئے ہیں۔عدالت عالیہ نے فیصلے کی مصدقہ کاپی الیکشن کمیشن کو بھجوانے کا حکم بھی دیا، جس کے بعد خواجہ آصف کو قومی اسمبلی نشست سے ڈی سیٹ کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔واضح رہے کہ خواجہ آصف 2013 کے عام انتخابات میں این اے 110 سیالکوٹ سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔
یہ خبر جس ویب سائٹ سے لی گئی ہے اس کا لنک یہاں ہے. شکریہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *