عدلیہ نے پہلی مرتبہ طاقتور کے گرد احتساب کا شکنجہ کسا ہے،سینٹ انتخابات میں ضمیر بیچنے والوں کے خلاف عمران خان نے اہم فیصلہ سنا دیا

imran-4.png

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی مجلس عاملہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے اجلاس کی صدارت کی۔اجلاس سے خطاب کے دوران عمران خان نے چار نکاتی قرارداد پیش کی ۔ قرارداد میں فاٹا کے انضمام میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی کی وجہ سے ہونے والی تاخیر کی شدید مذمت کی گئی۔چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھاکہ خوشی ہے چیف جسٹس اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹنگ کے حقوقکی کوشش کررہے ہیں، پاکستان کا سب سے قیمتی اثاثہ اوورسیز پاکستانی ہیں، وہ زرمبادلہ نہ

بھیجیں تو پہلے ہی ملک مقروض ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ انتخابات میں دو پارٹیوں نے چارٹر آف ڈیموکریسی کے نام پر مک مکا کیا اور اپنے امپائر کھڑے کیے، ایسا کبھی نہیں ہوا کہ الیکشن کو سب جماعتوں نے دھاندلی شدہ کہا ہو، پچھلی نگران حکومت شفاف انتخابات کرانے میں ناکام ہوئی، پچھلے تجربے سے سیکھ لیا، اس بار جو نگران حکومت بنے سب کی مشاورت سے بنے اور نیوٹرل امپار ہوں، جس کا مطلب ہے سب کو اس پر اعتماد ہو۔عمران خان نے کہا کہ کسی بھی حکومت کو 45 دن رہتے ہوئے بجٹ دینے کا اختیار نہیں ہم اس کی مخالفت کریں گے،خیبرپختونخوا میں بھی پرویز خٹک بجٹ نہیں دیں گے، ہمارے پاس اگلی حکومت کا بجٹ دینے کا کوئی مینڈیٹ نہیں۔جہانگیر ترین، شاہ محمود قریشی اور پرویز خٹک نے بھی اجلاس سے خطاب کیا۔بعد ازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے چیئرمین نے کہا کہ علی جہانگیر صدیقی کی بطور سفیر امریکہ نامزدگی کی بھرپور مخالفت کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی مقبولیت بلندیوں کو چھو رہی ہے۔ایک ایک نشست پر بہت سے خواہشمند امیدوار سامنے آرہے ہیں۔آج کے دن تک پہنچنے میں بہت سے دشوار گزار مرحلوں سے گزرے۔جن افراد نے انتخابات کی بہتر تیاری نہ کی اس سے ٹکٹ واپس لے لیں گے۔ٹکٹوں کی تقسیماور ضابطہ اخلاق کے مابین گہرا ربط ہے۔پارٹی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والوں سے سختی سے نمٹیں گے۔ عمران خان نے مزید کہا کہ کوئی جماعت نظم و ضبط کے بغیر نہیں چل سکتی۔سینٹ انتخابات میں ضمیر بیچنے والوں کو پارٹی سے نکالنا ہے۔مکمل تحقیقات کے بعد سخت اقدام اٹھائیں گے۔2013 میں اسی فیصد نئے لوگوں کو میدان میں اتارا۔ایماندار، وفادار اور منتخب ہونے کی صلاحیت کے حامل افراد کو میدان میں اتاریں گے۔جب تک خود مطمئن نہیں ہوں گا کسی کو ٹکٹ نہیں دیا جائے گا۔خوب چھان پھٹک کر اپنے امیدواروں کا تعین کریں گے۔منظم اور بھرپور انداز میں احتساب کیخلاف مہم جاری ہے۔وزیر اعظم اور طاقتور میڈیا ہاوسز کی معاونت سے احتساب عدالت کے فیصلے پر اثر انداز ہونے کی کوششیں جاری ہیں۔عوام نواز شریف کے احتساب پر نہایت خوش اور مطمئن ہے۔عدلیہ نے پہلی مرتبہ طاقتور کے گرد احتساب کا شکنجہ کسا ہے۔لاہور کے جلسے کا خاص مقصد ہے۔لاہور کے جلسے سے پیغام دیں گے کہ قوم اپنی عدلیہ اور اداروں کی پشت پر کھڑی ہے۔کارکنان لاہور کے جلسے کو تاریخی اور کامیاب بنانے کیلئے آج سے سرگرمیوں کا آغاز کریں۔لاہور کے جلسے کیلئے تیاریوں کا دائرہ ملک بھر میں پھیلانا ہے۔28 کی شام کو لاہور میں مینار پاکستان پر جشن کا سماں پیدا کریں گے۔لاہور کے جلسے میں منشور اور پہلے سو دن کا منصوبہ عمل دیں گے۔اجلاس میں پارٹی کا ضابطہ اخلاق متفقہ طور پر منظورکیا گیا۔

یہ خبر جس ویب سائٹ سے لی گئی ہے اس کا لنک یہاں ہے. شکریہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *