حسن نواز اور حسین نواز کے لندن میں رہائش کے اخراجات نوازشریف نہیں بلکہ کون اُٹھاتارہا؟احتساب عدالت میں ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کے دوران حیرت انگیزانکشافات

nawaz-2.png

اسلام آباد (آئی این پی )احتساب عدالت اسلام آباد میں ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت( آج )بدھ تک ملتوی کر دی گئی،سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کی واجد ضیاء پر جرح نویں روز بھی جاری رہی۔گزشتہ روز شریف خاندان کے خلاف لندن فلیٹ ریفرنس کی سماعت کے دوران سابق وزیراعظم نواز شریف مریم نواز اور کیپٹن صفدر عدالت میں پیشم ہوئے احتسابعدالت کے جج محمد بشیر نے شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کی۔ خواجہ حارث نے گواہ واجد ضیاء پر نویں روز بھی جرح جاری رکھی۔ جے آئی ٹی کے سربراہ

واجد ضیاء نے عدالت کو بتایا کہ نواز شریف نے جے آئی ٹی میں پیش ہو کر کہا کہ وہ کبھی کمپنی چلانے یا کسی ٹرانزیکشن میں ملوث نہیں رہے۔ نواز شریف نے جے آئی ٹی میں پیش ہو کر بتایا کہ نیلسن اور نیسکول سمیت کسی کمپنی کا بینیفشل فائدہ نہیں اٹھایاواجد ضیاء نے عدالت کو بتایا کہ حسن نواز اور حسین نواز کے لندن میں رہائش کے اخراجات میاں محمد شریف برداشت کرتے تھے، نواز شریف نے بتایا کہ کسی بھی سرمایہ کاری کی تقسیم جو خاندان میں ہوئی وہ صرف میاں محمد شریف کا ذاتی فیصلہ تھاواجد ضیاء نے کہا کہ تفتیش کے دوران کسی گواہ نے نہیں بتایا کہ حسن نواز، حسین نواز اور مریم نواز ، نواز شریف کے زیر کفالت رہے اور نہ ہی کسی گواہ نے نہیں بتایا کہ حسن اور حسین نواز کسی کاروبار کے لیے نواز شریف کے زیر کفالت تھے، خواجہ حارث کی واجد ضیاء پر جرح آج بھی مکمل نہ ہو سکی عدالت نے کیس کی سماعت آج بدھ تک ملتوی کردی.

یہ خبر جس ویب سائٹ سے لی گئی ہے اس کا لنک یہاں ہے. شکریہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *