مقامی طور پر تیار کی جانے والی گاڑیوں کی قیمتوں میں بڑی کمی کی تیاریاں

car.png

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان آٹو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے مقامی طور پر تیار کی جانے والی گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی لانے کے لیے تجاویز دی ہیں۔پاما کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اضافی ڈیوٹی سے صنعت متاثر ہوئی ہے۔ کچھ ایس آر اوز میں چھوٹ کے ذریعے بھی قیمتوں میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ اسی طرح سٹیل پر 5 فیصد سے 30 فیصد تک ریگولیٹری ڈیوٹی بھی عائد کی ہوئی ہے۔یہ سٹیل شیٹس آٹو انڈسٹری کا بنیادی خام مال ہے اور ملک میں تیار نہیں کیا جاتا اور اس کا صنعت پراثر پڑتا ہے جو تقریباً 3 ہزار

روپے سے 5 ہزار روپے تک ہے۔ اس لیے اس ضمن میں امپورٹ پر چھوٹ دی جائے جس طرح ایس آر اوز کے تحت دیگر صنعتوں کو دی گئی ہے۔پاما نے کہا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 148 میں ترمیم کی جائے تا کہ خام مال، پلانٹ اور مشینری پر ود ہولڈنگ کی شرح کم ہو سکے اور اسے 5.5 فیصد سے 1 فیصد تک لایا جائے۔ چھوٹ کے سرٹیفکیٹ کے اجرا ء کے مراحل کو بھی آسان بنایا جائے۔ ای ڈی بی کی تجویز کے مطابق اشیا ء پر ایکسپورٹ آئٹم پر ود ہولڈنگ ٹیکس کم کرکے 0.5 فیصد کیا جائے تا کہ مارکیٹ میں مسابقت کا مقابلہ کرتے ہوئے برآمدی ہدف کو حاصل کیا جا سکے۔ایکسپورٹ پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی وجہ سے انجینئرنگ مصنوعات کی قیمتوں پر اثر پڑتا ہے جو صنعت کے لیے بھاری بوجھ بن جاتا ہے۔ پاما نے کہا کہ ایلومینیم الائے پر بھی ریگولیٹری ڈیوٹی کو ختم کیا جائے کیونکہ یہ سٹیل انڈسٹری کو تحفظ دینے کے لیے عائد کیا گیا تھا۔پاما نے سپر ٹیکس کو بھی امتیازی قرار دیتے ہوئے اسے ختم کرنے کی سفارش کی ہے اور کہا کہ اس کے خاتمے سے غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہو گا اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا۔ پاما نے کہا کہ ابتدائی الاؤنس کی شرح کو بحال کیا جائے جو پہلے پلانٹ اور مشینری کے لیے 50 فیصد اور بلڈنگز کے لیے 25 فیصد تھا ۔ اسی طرح ٹیکس کریڈٹ کو بھی بحال کیا جائے۔اسی طرح پاما نے ٹیکس کریڈٹ بحال کرنے کی بات کی اور ایف بی آر کے ایشو میں رجسٹرڈ سپلائر سے خریداری کے ضمن میں جرمانے کو غیر منصفانہ قرار دیا۔

یہ خبر جس ویب سائٹ سے لی گئی ہے اس کا لنک یہاں ہے. شکریہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *