August 18, 2018

کوئی بھی ہو مگر آپ نہیں۔!جب چاہوں (ن)لیگ کی حکومت گراسکتا ہوں،نوازشریف کی سیاست ختم کرکے پنجاب کی وزارت اعلیٰ بھی چھین کردکھاؤں گا،آصف علی زرداری نے دھماکہ خیز اعلان کردیا

کوئی بھی ہو مگر آپ نہیں۔!جب چاہوں (ن)لیگ کی حکومت گراسکتا ہوں،نوازشریف کی سیاست ختم کرکے پنجاب کی وزارت اعلیٰ بھی چھین کردکھاؤں گا،آصف علی زرداری نے دھماکہ خیز اعلان کردیا

گڑھی خدا بخش (این این آئی) پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرینز کے صدر آصف زرداری نے کہا ہے کہ نوازشریف نے ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر ہماری پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے جبکہ نواز شریف سے اب صلح نہیں ہوسکتی، پیپلزپارٹی میاں صاحب سے سیاست چھڑوا کررہے گی، جب چاہوں (ن)لیگ کی حکومت گراسکتا ہوں ، پنجاب کی وزارت اعلی بھی نوازشریف کو نہیں لینے دیں گے، ہم کسی کے ساتھ مل کربھی حکومت بنائیں مگرآپ سے نہیں ملیں گے،پہلے بھی کہا تھا کہ آراوالیکشن نہیں مانتے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو گڑھی خدا بخش میں پیپلزپارٹی کے

بانی ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) وہ پارٹی ہے جو حکومت بھی خود کرتی ہے اور اپوزیشن بھی جبکہ سمجھ نہیں آتا میاں صاحب حکومت پر کیوں اور کیسے تنقید کرتے ہیں حالانکہ وزیراعظم اور وزیراعلی دونوں ہی ان کے ہیں۔ آصف زرداری نے کہا کہ پہلے نوازشریف نے اپنی آنکھیں سرپررکھ لیں۔ اب ہم نے رکھ لی ہیں جبکہ میاں صاحب نے ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ملکر ہماری پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔ نوازشریف سے صلح نہیں ہوسکتی اور ان سے جنگ رہے گی۔آپ سیاست داں نہیں، بلکہ مغل شہنشاہ ہیں، آپ کی وجہ سے ہمارے دوست ہم سے دور ہوگئے۔میاں صاحب غریبوں کو لوٹنا اور ان کا خون چوسنا چھوڑ دیں، وہ دن یاد کریں جب ہم نے آپ کی حکومتیں بچائی تھیں، آپ کے وزرا کے پیر کانپ رہے تھے، اگر میں لندن سے نہ آتا، اس کے باوجود آپ نے آنکھیں پھیر لیں۔ انہوں نے نوازشریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بہت جلد پنجاب میں آئیں گے۔ تخت رائے ونڈ کو ہلائیں گے جبکہ پیپلزپارٹی میاں صاحب سے سیاست چھڑوا کررہے گی۔ہمیں تو تجربہ ہے آپکو نہیں ہے، ہم تو آپ کے ساتھ مل کرچلتے تھے، پاکستان کودوبارہ مضبوط ملک بنائیں گے، اسلامی،دوست اور دیگر ممالک سے تعلقات بہتر کریں گے۔ سابق صدر نے کہا کہ میں نے کہا تھا کہ جب چاہوں (ن)لیگ کی حکومت گراسکتا ہوں اور کہا تھا کہ اس بار سینیٹ کا چیئرمین نہیں لینے دوں گا جبکہ اس مرتبہ پنجاب کی وزارت اعلی بھی نوازشریف کو نہیں لینے دیں گے، ہم کسی کے ساتھ مل کربھی حکومت بنائیں مگرآپ سے نہیں ملیں گے اور ہم آپ سے تب بات کریں گے جب آپ ختم ہوچکے ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ پہلے بھی کہا تھا کہ آراوالیکشن نہیں مانتے، میاں صاحب یہ آپ کا مینڈیٹ نہیں یہ آراو الیکشن تھے،پنجاب میں میاں صاحب کی جلسیاں ہورہی ہیں اور انہوں نے لاہور میں اربوں روپے خرچ کرکے ایک سیٹ نکالی۔آصف زرداری نے الزام لگایا کہ ن لیگ نے سینیٹ انتخابات کے موقع پر رضا ربانی کا نام لے کرپیپلزپارٹی میں تفریق پیدا کرنے کی کوشش کی، مگر رضاربانی ایسے نہیں، وہ پیپلزپارٹی کے ساتھ کھڑے رہے۔ انھوں نے کہا کہ میاں نوازشریف کو40 سال کا حساب دینا ہوگا۔ انھوں نے لاہور میں اربوں روپے خرچ کرکے ایک سیٹ نکالی،میاں صاحب آپ کے گھر اور موچی گیٹ کی طرف جانے والے راستوں میں فرق ہے، موجودہ مینڈیٹ آپ کا مینڈنٹ نہیں، وہ آر او الیکشن تھے۔ آصف زرداری نے کہا کہ جمہوریت کی بدولت ہم بلوچستان کو آگے لے کر گئے، بلوچستان کو ایک باپ، ایک ماں کی ہماری اور ایک پارٹی کی ضرورت ہے، بلوچستان میں آپ کی غفلتوں کی وجہ سے آگ لگی ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں پیپلزپارٹی کے کارکنوں کو سلام پیش کرتا ہوں، بھٹووہ شخصیت تھی جس کا نام ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ آصف زرداری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھٹو وہ شخصیت تھے جن کا نام ہمیشہ یاد رکھا جائے گا،انہوں نے نعرہ بھی لگایا کہ جب تک سورج چاندرہے گا بھٹو تیرانام رہے گا۔انہوں نے کا کہ پنجاب میں پٹواری، ڈی سی جلسیاں کررہے ہیں۔دریں اثناء پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ میاں صاحب مولا جٹ بن کر ججز کو دھونس اوردھمکیوں سے ڈرانا چاہتے ہیں جبکہ پوری زندگی ووٹ کو عزت نہ دینے والے آج ووٹ کی عزت کی بات کررہے ہیں، ذوالفقارعلی بھٹو کو پھانسی پر لٹکا کر پاکستان کے سنہری دور کو بھی لٹکا دیا گیا، نواز شریف اور عمران خان کی جنگ منافقوں کی جنگ ہے، ہم ضیا کی پیداوار اور طالبان کے بچھڑے بھائی عمران خان کے خلاف لڑیں گے،یاد رکھو یہ ان کا آخری اور میرا پہلا الیکشن ہوگا، ہم فرقہ واریت، دہشت گردی، انتہا پسندی کے خلاف لڑیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو گڑھی خدا بخش میں پاکستان پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کے صدر آصف علی زرداری، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر جلسہ گاہ کھچا کھچ بھرا ہو اتھا۔ بلاول بھٹوزرداری نے کہا کہ ذوالفقارعلی بھٹو کو پھانسی پر لٹکا کر پاکستان کے سنہری دور کو بھی لٹکا دیا گیااور آج تک پاکستان کا سنہرا دور پھانسی گھاٹ پر جھول رہا ہے جب کہ جمہوریت اور آئین بھٹو کا ہی کارنامہ ہے، یہ پاکستان بھٹوشہید کا تحفہ ہے، متفقہ آئین بنانا کوئی مذاق نہیں تھا لیکن آج پوری دنیا میں پاکستان کا نام رسوا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ہم دیکھ رہے ہیں نوازشریف عمران خان ایک دوسرے سے لڑرہے ہیں لیکن ان کی جنگ منافقوں کی جنگ ہے اور مقصد صرف اقتدار میں آکر پیسہ بنانا ہے، عمران،نوازشریف کا نظریہ سرمایہ،جھوٹ اورفریب ہے،ان کی سیاست اورمعیشت امیروں کے لیے ہے،جاتی امرا اور بنی گالہ میں سرمایہ دار جمع ہوچکے ہیں اور اگر یہ لوگ اقتدار میں آگئے تو پتا نہیں ملک کا کیا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ عوام بتائیں وہ کس کے ساتھ ہیں، بھٹو کے وارثوں یا ضیاالحق کے وارثوں کے ساتھ، طالبان کا بچھڑا بھائی عمران خان ہے اور ہم مذہبی انتہاپسندوں کی بھی ٹیم کو اقتدار میں نہیں آنے دیں گے۔ عوام بتائیں کس کے ساتھ ہیں،بھٹو کے وارثوں یا ضیاالحق کے وارثوں کے ساتھ تیسرا منافقت کے گھوڑے پربیٹھ کردوڑا چلا آرہا ہے،اسکے جھنڈے پریوٹرن لکھا ہے۔چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ نوازشریف آج ووٹ کی عزت کی بات کررہے ہیںجب کہ انہوں نے پوری زندگی ووٹ کو عزت نہیں دی۔ وہ صبح عدلیہ کو گالی دیتے ہیں اور رات کو اپنے وزیراعظم کو معافی کے لیے بھیج دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بڑے میاں یا چھوٹے میاں سے ملک نہیں چلے گا، لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے دعوے کیے جارہے تھے مگر جیسے ہی سردیاں ختم ہوئیں ان کا جھوٹ سامنے آگیا۔ انہوں نے کہا کہ میاں صاحب آپ بہت کنفیوژ ہو، آپ کو تین موقعے ملنے کے باوجود آپ سے یہ ملک نہیں چل سکا نہ چلے گا۔ہم فرقہ واریت، دہشت گردی، انتہا پسندی کے خلاف لڑیں گے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان اور میاں صاحب ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں،یہ اقتدار کی جنگ ہے ان دونوں کی جدوجہد جھوٹ اور فریب ہے، عوام کو اس سے غرض نہیں کہ کیوں نکالا، عوام مسائل کا حل چاہتی ہے، پیپلزپارٹی نے عوامی مسائل کے حل کے لیے کامیاب منصوبے بنائے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ آج کا سب سے بڑا فرعون انتہا پسندی اور دہشت گردی ہے، انتہا پسندی کو ختم کرنے کے لیے تعلیمی نصاب سے قومی پالیسی تک منصوبہ بندی کی ضرورت ہے، پیپلزپارٹی واحد جماعت ہے جو دہشت گردی، انتہا پسندی کا مقابلہ کرسکتی ہے۔چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ تیسری نسل آگئی جنون ختم ہوا نہ جذبہ کم ہوا، دنیا کے کونے کونے سے بھٹو کے دیوانے چھوٹے سے گاؤں میں کھنچے چلے آئے،سندھ کے بیٹوں نے بھی گڑھی خدا بخش آکر جئے بھٹو کا نعرہ لگایا، یہ طاقت ہے اس مظلوم کی جو ہنستے ہوئے پھانسی گھاٹ پر جھول گیا۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو سیاست میں 32 اور عمران خان کو 22واں سال ہے، ذوالفقار علی بھٹو کے 11 سال کے اثرات کوئی کم نہ کرسکا، یہ پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کا تحفہ ہے، ملک کا متفقہ آئین بنانا کوئی مذاق نہیں تھا، ملک 26 سال بغیر آئین کے چلا، آئین بنانے کا کارنامہ بھٹو نے کیا تھا۔بلاول بھٹو نے کہا کہ آج پاکستان کے پاس ایٹم بم ہے تو یہ ذوالفقار بھٹو کا کارنامہ ہے، آپ کے پاس پاسپورٹ ہے، آج مزدوروں، کسانوں کے پاس کوئی حق ہے، کامیاب خارجہ پالیسی اگر ہے تو یہ ذوالفقار بھٹو کا کارنامہ ہے۔انہوں نے کہا کہ بھٹو کا عظیم پاکستان چاہئے تو میرے ہاتھ میں ہاتھ دینا ہوگا، ایک جنرل ضیا تھا جو فضا میں ہی اڑ گیا اس کے وارث کا نام نواز شریف ہے، بھٹو کا وارث آپ کے سامنے کھڑا ہے آپ کی مرضی ہے کس کا ساتھ دیتے ہیں، ملک کا سیاسی نظام شہیدوں کی بدولت ہے جسے ہم کسی صورت لپیٹنے نہیں دیں گے۔چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ جاتی امرا اور بنی گالہ میں جمع ہونیوالوں کو پیپلزپارٹی سے خطرہ ہے، پیپلزپارٹی اقتدار کے لالچیوں کو دیوار سے لگائے گی، مذہبی انتہا پسندی کی بی ٹیم کو اقتدار میں نہیں آنے دیں گے۔بلاول بھٹوزرداری نے کہا کہ جسے دیکھو آج جمہوریت جمہوریت کررہاہے، آج ملک میں جمہوریت ہے تویہ بھٹوکاکارنامہ ہے، شملہ معاہدے میں بھٹو کے ہاتھ میں ہتھیار نہیں تھا،بھٹو میز پر بیٹھے اور جنگ جیت لی۔بلاول بھٹو نے کہا کہ عمران،نوازشریف بتائیں غربت کم کرنے کے لئے کیا پروگرام بنایا؟ ن لیگ،پی ٹی آئی کی سیاست اورمعیشت امیروں کے لئے ہے، امیروں کے لئے دی جانے والی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے عمران نے بھی فائدہ اٹھایا، جاتی امرااوربنی گالہ میں سرمایہ دار جمع ہوچکے ہیں، نواز،عمران ایک دوسرے کو نیچا صرف اقتدار کے حصول کے لئے دکھارہے ہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی ملک کی واحد جماعت ہے جو دہشتگردی سے مقابلہ کر سکتی ہے،انتہا پسندی سے مقابلہ کر سکتی ہے۔اس سے قبل جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے عمران خان اور نواز شریف کو تنقید کا نشانہ بنایا ،انہوں نے کہا کہ سیاست عمران خان کے بس کی نہیں، عمران خان کرکٹرہیں،ٹیم کے کوچ بن جائیں، عمران خان کاکام صرف الزام لگاناہے، عمران خان نے خیبرپختونخوا کو تباہ کردیا ہے۔ وزیراعلی سندھ نے کہا کہ نوازشریف تو سیاست سے گوہوچکے ہیں، آئندہ الیکشن میں پیپلزپارٹی کامیابی حاصل کرے گی، 10 سال پہلے والا سندھ آج بدل چکاہے۔

یہ خبر جس ویب سائٹ سے لی گئی ہے اس کا لنک یہاں ہے. شکریہ

Related posts