ریحام خان طلاق کے بعد عمران خان کا بلیک بیری‘چوری کر کے میرے پاس آئیں مجھے سےعمران خان کیخلاف کونسی باتیں لکھوانا چاہتیں تھیں ؟ ان کے پاس ایسی کیا انفارمیشن تھیں ؟میں نے کیوں انکار کیا ؟ سینئر صحافی کے تہلکہ خیز انکشافات سامنے آگئے

reham.png

لندن (ویب ڈیسک) معروف صحافی مبین رشید نے انکشاف کیا ہے کہ ریحام خان طلاق ہوتے ہی میرے پاس آئیں تھیں وہ عمران خان کا بلیک بیری چور ی کر کے ساتھ لائیں تھیں۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی کے ایک پروگرام ’’لائیو نصر اللہ ملک ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی مبین رشیدنے انکشا کیا ہے کہ ریحام خان کے طلاق کے بعد عمران خان کا بلیک چوری کر کے اپنے ساتھ لائیں تھیں اور مجھے انہوں نے کتاب لکھنے کا کہا تھا ۔ان کا یقین تھا کہ اس موبائل میں پارٹی سے متعلق کافی مواد موجود

ہو گا ۔ ریحام طلاق کے بعد ایک ٹوٹی ہوئی اور بے بس خاتون نظر آئیں تو مجھے لگا کہ ان کی مدد کرنے چاہیے ۔ لیکن جب انہوں نے عمران خان کے کردار کشی باتیں لکھوانے کا کہا تو میں نے صاف طور پر انکار کر دیا کہ میں کسی کی کردار کشی پر کوئی کتاب نشر نہیں کروں گا ۔ انہوں نے کہاکہ ریحام عمران کے خلاف با ر بار باتیں لکھوانے پر اسرار کرہی تھیں جن سے مجھے شک ہوا کہ ان باتوں سے خان صاحب کی شخصیت کو ٹھیس پہنچے گی جس پرمیں نے انہیں صاف انکار کردیا جبکہ کتاب کا مکمل مسودہ اور آڈیو میرے پاس موجود ہیں۔ کوئی شک نہیں عمران خان قومی ہیرو اور اس ملک کا اثاثہ ہیں لیکن ریحام خان کو پہلے کوئی نہیں جانتا تھا لیکن چیئرمین تحریک انصاف سے شادی کے بعد انہیں پاکستان میں لوگ جاننے لگے اور مقبولیت ملی۔سینئر صحافی مبین رشید نے مزید کہا ہے کہ ریحام خان کا کہنا تھا عمران خان پتہ نہیں پٹھان ہیں یا نہیں لیکن میں پٹھان ہوں اور میں کسی صورت انہیں نہیں چھوڑوں گی ‘۔ اکثر تقریروں ، پریس کانفرنسز میں دیکھا گیاہے کہ ریحام خان نے عمران خان کو بدنام کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی انہیں جہاں موقعہ ملا وہاں ریحام خان نے کھل کر چیئرمین پی ٹی آئی کیخلاف باتیں کیں ۔ یہی نہیں ریحام نے خان صاحب کا ریکارڈ بھی محفوظ کر لیا تھا۔انہوں نے کہاکہ ریحام خان کی کتاب اردو اور انگلش میں ہوگی ،ٹارگٹ عمران خان ہو نگے لیکن کتاب سے فائدہ عمران خان کو ہوسکتا ہے۔ ‎

یہ خبر جس ویب سائٹ سے لی گئی ہے اس کا لنک یہاں ہے. شکریہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *