August 18, 2018

متعدد شہروں میں گرمی کی شدت میں خوفناک اضافہ، درجہ حرارت 46سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا،شہری گھروں تک محدود،کاروبار زندگی معطل

متعدد شہروں میں گرمی کی شدت میں خوفناک اضافہ، درجہ حرارت 46سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا،شہری گھروں تک محدود،کاروبار زندگی معطل

جیکب آباد(این این آئی) جیکب آباد میں گرمی کی شدت میں اضافہ، درجہ حرارت 46سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا ، بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف شہریوں کا احتجاجی مظاہرہ اور دھرنا۔ تفصیلات کے مطابق جیکب آباد میں گرمی کی شدت میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے گرمی کی شدت میں اضافے کے باعث شہری گھروں تک محصور ہوکر رہ گئے ہیں جبکہ کاروبار بھی متاثرہ ہورہا ہے ، جمعہ کے روز جیکب آؓاد میں گرمی کا درجہ حرارت 46سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے،

ایک جانب شدید گرمی تو دوسری جانب بجلی کی غیر اعلامیہ لوڈشیڈنگ نے شہریوں کا جینا محال کردیا ہے ، بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف علی محمد عوامی پارٹی کی جانب دلمراد لاشاری کی قیادت میں احتجاجی جلوس نکالا گیامظاہرین نے جلوس نکال کر لوڈشیڈنگ کے خلاف نعریبازی کی اور ڈی سی چوک پر پہنچ کر دھرنا دیکر روڈ بلاک کردیا، اس موقع پر مظاہرین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جیکب اباد ایشیا کا گرم ترین شہر ہے جہاں 14سے 18گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے جو کہ عوام کے ساتھ ذیادتی ہے انہوں نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ بند کیا جائے بصورت دیگر سیپکو آفیس کا گھیراؤ کیا جائے گا۔ دریں اثناء پنگریو اور زیریں سندھ کے دیگر سیکڑوں شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں جمعہ کے روز دن بھر انتہائی تیز اور گرم ہوائیں چلتی رہیں جس کی وجہ سے سن اسٹروک اور دیگر امراض سے متاثرہ مریضوں سیکڑوں مریضوں کو علاج کے لئے سرکاری اور نجی اسپتالوں میں لایا گیا جبکہ زیریں سندھ بھر میں معمولات زندگی معطل ہو کر رہ گئے اور لوگ اپنے گھروں تک محدو د ہوگئے سڑکوں پر ویرانی چھائی رہی سرکاری ونجی دفاتر میں حاضری معمول سے کم رہی کاروباری اور تجارتی مارکیٹیں گاہکوں سے خالی دکھائی دیں جبکہ باغات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے جمعہ کے روز صبح سے شروع ہونے والی تیز طوفانی ہوائیں گرم لُو میں تبدیل ہوگئیں اور سارا دن تیز گرم لُو کے تھپیڑے چلتے رہے جس کی وجہ سے لوگوں کا گھروں سے نکلنا محال ہو گیا

اور لوگ خاص طور پر چھوٹے بچے گرم لُو لگنے کے باعث بے حال ہو گئے تیز گرم ہوائیں چلنے کے باعث بجلی اور مواصلات کا نظام درہم برہم ہو گیا اور سیکڑوں قصبوں و دیہاتوں کی بجلی معطل رہی طوفانی ہواؤں کے باعث بجلی کے پول، تاریں، چھپرے، سائن بورڈز، ہورڈنگز گرنے کے واقعات بھی پیش آئے جس کی وجہ سے کچے لنک روڈ ٹریفک کے لئے بند ہو گئے گرم لُو کے جھکڑ چلنے کے باعث پبلک ٹرانسپورٹ بھی سڑکوں سے غائب دکھائی دی جبکہ پنگریو سمیت زیریں سندھ کے سیکڑوں چھوٹے بڑے شہروں میں
کاروباری اور تجارتی سرگرمیاں ٹھپ ہو کر رہ گئیں اور کاروباری افراد سارا دن گاہکوں کا انتظار کرتے رہے گرم ہواؤں کے جھلسنے سے متاثرہ کئی افراد کو علاقے کے نجی اور سرکاری اسپتالوں میں علاج کے لئے لایا گیا دیہاتی علاقوں میں بھی لوگ گھروں میں دبکے رہے میدانی علاقوں میں کئی کلومیٹر تک کا علاقہ گردو غبار سے ڈھکا رہا اور آسمان پر مٹی کے بادل چھائے دکھائی دیئے خاص طور پر ساحلی علاقوں میں ریت اور مٹی کی بارش سے ساحلی علاقوں کے مکینوں کے معمولات زندگی بہت زیادہ متاثر ہوئے ہیں
گردوغبار کے ساتھ چلنے والی تیز گرم ہواؤں کے چلنے کے باعث زرعی فصلوں اور آموں، چیکو، امرود،لیموں ، جامن کے باغات کو زبردست نقصان پہنچا ہے اور باغات سے بوُر، کیریاں اور یگر فروٹ گرنے کے باعث باغبانوں اور ٹھیکیداروں کو بھی معاشی نقصان ہوا ہے جس کی وجہ سے یہ باغبان اور ٹھیکیدار شدید پریشان دکھائی دے رہے ہیں ڈاکٹروں نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ موجودہ جھلسا دینے والی گرم ہوائیں انسانی صحت کے لئے نقصان دہ ہیں اور اتنی تیز گم لُو چلنے سے دماغ چکرانے کے ساتھ ساتھ

پسینہ زیادہ بہنے سے جسم میں پانی کی کمی بھی ہوسکتی ہے ڈاکٹروں کے مطابق موجودہ گرم اور تیز لُو کے جھکڑ وں سے محفوظ رہنے کی کوشش کی جانی چاہیئے اور لوگ بغیر کسی کام کے گھروں سے نہ نکلیں ڈاکٹروں کے مطابق گرم ہوائیں چلنے کی لہر کے بعد سن اسٹروک سے متاثرہ کئی مریض علاج کے لئے لائے جارہے ہیں۔ لاڑکانہ کا شمار ملک بھر کے گرم ترین شہروں میں کیا جاتا ہے جہاں موسم گرما کے ابتدا سے ہی گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے۔ محکمہ موسمیات کی جانب سے جمعے کے
روز لاڑکانہ اور گرد و نواح میں گرمی کا درجہ حرارت 44 سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جبکہ گرمی کے باعث شہریوں نے ٹھنڈے مشروبات کے استعمال میں بھی اضافہ کردیا۔ تپتی دھوپ سے بچنے کے لیے شہری درختوں کے سائے میں بیٹھ کر گرمی کی شدت کو کم کرنے میں مصروف دکھائی دیئے۔ شدید گرمی اور تپتی دھوپ کی رہی سہی کثر بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ نے نکال لی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گرمی کی نئی لہر آئندہ چند روز کے دوران جاری رہنے کے امکان ہیں۔
یہ خبر جس ویب سائٹ سے لی گئی ہے اس کا لنک یہاں ہے. شکریہ

Related posts