طالبان نے افغان فوج کے خلاف سب سے خوفناک ’’ہتھیار‘‘استعمال کرناشروع کردیا

2-55.jpg-55.jpg

کابل: امریکی صدر ٹرمپ افغانستان میں مزید فوج بھیج کرجس فتح کا خواب دیکھ رہے ہیں اسکی تعبیر کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ افغان فوجیوں کی ایک انتہائی شرمناک بیماری نے کھڑی کردی ہے.امریکی میڈیا کے مطابق افغان فوج میں یہ بیماری طالبان کا ’’لونڈابم‘‘ پھیلا رہا ہے.

امریکہ اور بھارت کی تربیت یافتہ افغان فوج جہاں افیون کے ٹھیکوں کے حوالے سے بدنام ہوچکی ہے وہاں ’’بچہ بازی‘‘ میں اسکا کوئی ثانی نہیں.افغان فوجیوں میں بڑھتی ہوئی بچہ بازی پر امریکی حکام کوئی قدم اٹھانے سے معذور نظرآتے ہیں کیونکہ افغانیوں میں بچہ بازی ایک قدیم قبائلی علت پائی جاتی ہے جسے ختم کرنا امریکیوں کے بس میں نہیں ہے .تاہم پینٹاگون پر دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ مقامی افغان فوجیوں کو بچہ بازی سے روکنے کے لئے قانون نافذ کیا جائے کیونکہ امریکہ طالبان سے جس جنگ کو جیتنے کے لئے اربوں ڈالر استعمال کررہا ہے وہاں طالبان نے انکی کوششوں کو زائل کرنے کے لئے افغان فوجیوں کو بچہ بازی کی بیماری میں مبتلا کرکے سیکورٹی کی صورتحال کو نازک بنادیا ہے .واشنگٹن پوسٹ نے چند ماہ پہلے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ افغانستان میں ہیروئن اور افیون سے زیادہ مہلک نشہ بچہ بازی ہے اور افغان فوجی اس کا شکار ہوچکے ہیں.

امریکن میڈیا کے مطابق افغانستان میں ہر طاقتور سیاستدان ،وارلارڈ اور سرمایہ دارافغانی کم سن اور خوبصورت بچوں کو غلام بنا کر ان کے ساتھ جنسی زیادتی کرتا اور فخریہ ایسے بچوں کی اپنے مہمانوں سے ملاقات کراتے ہوئے کہتاہے’’یہ دیکھو ہمارا لونڈا‘‘ .میڈیارپورٹس کے مطابق جس بااثر افغان کے پاس ’’لونڈے‘‘ موجود نہ ہوں اسکو شرم دلائی جاتی ہے جس سے افغانوں میں بچہ بازی فروغ پارہی ہے.طالبان کے خلاف لڑنے والے افغان فوجی اپنے ٹھکانوں پربھی اغلام بچے کو ساتھ رکھتے ہیں.یہ بچے زیادہ تر اغوا کئے ہوتے ہیں یا انہیں سرچ آپریشنز کے دوران انکے گھروں سے اٹھالیا جاتا ہے.امریکی سکیورٹی اداروں میں یہ تشویش بڑھتی جارہی ہے کہ افغان فوجیوں کو بچہ بازی سے کیسے محفوظ رکھا جائے کیونکہ ان ’’لونڈوں ‘‘ کی وجہ سے انکی سکیورٹی کمزور ہورہی ہے .دی واشنگٹن پوسٹ کے مطابق افغانستان کو 2001 میں طالبان سے آزادی دلوانے کے بعد افغانستان میں بچہ بازی کا کلچر بھی آزاد ہوگیا تھا جو اب امریکہ کے لئے تشویش ناک ہوچکا ہے. اس سے پہلے اے ایف پی نے بھی انکشاف کیا تھا کہ افغان طالبان نے امریکہ کے خلاف ’’بچہ بازی‘‘کو بطور ہتھیار استعمال کرنا شروع کردیا ہے .افغان خوبصورت بچوں کو تربیت دیکرافغان فوجیوں تک پہنچاتے اور ان کی کمزوری کا فائدہ اٹھاکر انکی جاسوسی کا فریضہ اداکرنے کے ساتھ ساتھ دشمن کے خلاف بڑا قدم اٹھانے میں مدد کرتے ہیں.امریکی ماہرین دفاع کا کہنا ہے کہ کسی خود کش حملہ آور کی نسبت کسی ’’اغلام بچے‘‘ کی شناخت کرنا زیادہ مشکل ہے. اس صورتحال سے نبٹنے کے لئے امریکہ کو فوری ایسا قانون بنانا ہوگا یا پھر افغان فوجیوں پر انحصار کم کرنا ہوگا .کیونکہ بچہ بازی میں مبتلا افغان فوجیوں کی وجہ سے امریکہ کو اپنی فورس میں اضافہ کرنا پڑرہا ہے.واضح رہے کہ افغان پارلیمنٹ نے امریکی ایما پر ہی بچہ بازی پر قانون سازی کرنے کا اعلان کردیا ہے.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *