بیوقوف مچھیرا

mchera.jpg

ایک مچھیراتھا ،۔وه صرف مچھلی كا شكار كرتا اور باقی وقت گھرپر گزارتا۔قناعت كا یہ عالم كہ جب تک پہلی شكار كی ہوئی مچھلی ختم نہ ہو دوبارہ شكار پر نہ جاتا۔ایک دن مچھیرے کی بیوی مچھلی كو كاٹ رہی تھی،كہ اس نے ایک حیرت ناک منظر دیكھا۔ حیرت نے تو اسكو كو دنگ كر كے ركھ دیا تھا۔ایک چمكتا دمكتا موتی مچھلی كے پیٹ میں۔سبحان اللہ۔ سرتاج، سرتاج، آؤ دیكھو تو، مجھے كیا ملا ہے۔كیا ملا ہے؟ بتاؤ تو سہی یہ دیکھو اتنا خوبصورت موتی۔ كدھر سے ملا ہے۔ مچھلی کے پیٹ سے۔ لاؤ مجھے دو میرى پیارى بیوى، ہے آج ہماری خوش قسمتی ہےجو اس كو بیچ كر مچھلی كے علاوه كچھ اور كھانا کھانے كو ملے گا۔ مچھیرے نے بیوى سے موتی لیا اور محلے كے سنار كے پاس پہنچا کہ ہمیں مچھلی كےپیٹ سے موتی ملا

سے موتی ملا ہے۔دو مجھے ، میں دیكھتا ہوں اسے ۔۔اوه ه ه ه ه ه ه ه ه، یہ تو بہت عظیم الشان ہے۔میرے پاس تو ایسی قیمتی چیز خریدنے كی استطاعت نہیں ہے۔چاہے اپنا گھر ، دكان اور سارا مال و اسباب ہی كیوں نہ بیچ ڈالوں،
اس موتی كی قیمت پھر بھی ادا نہیں کر سكتا میں۔تم ایسا كرو ساتھ والے شہر كے سب سے بڑے سنار كے پاس چلے جاؤ،ہو سكتا ہے كہ وه اسکی قیمت ادا كر سكے، جاؤ اللہ تیرا حامی و ناصر ہو۔مچھیرا موتی لے كر، ساتھ والے شہر كے سب سے امیر كبیر سنار كے پاس پہنچا اور اسے سارا قصہ كہہ سنایا۔مجھے بھی تو دكھاؤ، میں دیكھتا ہوں ایسی كیاخاص چیز مل گئی ہے تمہیں۔اللہ اللہ ، پروردگار كی قسم ہے بھائی، میرے پاس اسكو خریدنے کی حیثیت نہیں ہے لیكن میرے پاس اسكا ایک حل ہے، تم شہر كے والی کے پاس چلے جاؤ۔لگتا ہے ایسا موتی خریدنے كی اسكے پاس
ضرور حیثیت ہوگی۔مدد كرنے كا شكریہ، میں چلتا ہوں والی شہر کے پاس اور اب شہر كے والی كے دروازے پر،ہمارا یہ مچھیرا دوست ٹھہرا ہوا ہے، اپنی قیمتی متاع كے ساتھ،محل میں داخلے كی اجازت كا منتظراور اب شہر كے والی كے دربار میں اس كے سامنے۔میرے آقا، یہ ہے میرا قصہ، اور یہ رہا وه موتی جو مجھے مچھلی كے پیٹ سے ملا۔اللہ اللہ۔ كیا چیز ملی ہے تمہیں، میں تو گویا ایسی چیز دیكھنے كی حسرت میں ہی تھا لیكن كیسے اس كی قیمت كا شمار كروں۔ایک حل ہے میرے پاس، تم میرے خزانے میں چلے جاؤ۔اُدھر تمہیں 6 گھنٹے گزارنے كی اجازت ہوگی۔جس قدر مال و متاع لے سكتے ہو لے لینا، شاید اس طرح موتی کی كچھ قیمت مجھ سے ادا ہو پائے گی
۔آقا، 6 گھنٹے!مجھ جیسے مفلوک الحال مچھیرے كیلئے تو 2 گھنٹے بھی كافی ہیں۔نہیں، 6 گھنٹے، جو چاہو اس دوران خزانے سے لے سكتے ہو، اجازت ہے تمہیں۔ہمارا یہ مچھیرا دوست والی شہر كے خزانے میں داخل ہو كر دنگ ہی ره گیا،بہت بڑا اور عظیم الشان ہال كمرا، سلیقے سے تین اقسام اور حصوں میں بٹا ہوا،ایک قسم ہیرے، جواہرات اور سونے كے زیورات سے بھرى ہوئی۔ایک قسم ریشمی پردوں سے مزّین اور نرم و نازک راحت بخش مخملیں بستروں سے آراستہ اور آخرى قسم كھانے پینے كی ہر اُس شئے سے آراستہ جس كو دیكھ كر منہ میں پانی آجائے۔مچھیرے نے اپنے آپ سے كہا،6 گھنٹے؟مجھ جیسے غریب مچھیرے كیلئے تو بہت ہى زیاده مہلت ہے
یہ۔كیا كروں گا میں ان 6 گھنٹوں میں آخر؟خیر!كیوں نہ ابتدا كچھ كھانے پینے سے كی جائےآج تو پیٹ بھر كر كھاؤں گا، ایسے كھانے تو پہلے كبھی دیكھے بھی نہیں اور اس طرح مجھے ایسی توانائی بھی ملے گیجو ہیرے، جواہرات اور زیور سمیٹنے میں مدد دے اور جناب ہمارا یہ مچھیرا دوست خزانے كی تیسرى قسم میں داخل ہوا اور ادھر اُس نے والئیِ شہر كی عطاء كرده مہلت میں سے دو گھنٹے گزار دیئے اور وہ بھی محض كھاتے، كھاتے، كھاتے،۔اس قسم سے نكل كر ہیرے جواہرات كی طرف جاتے ہوئے،اس كی نظر مخملیں بستروں پر پڑى، اُس نے اپنے آپ سے كہا۔آج تو پیٹ بھر كر كھایا ہے۔كیا بگڑ جائے گا اگر تھوڑا آرام كر لیا جائے تو، اس طرح مال و متاع جمع كرنے میں بھی مزا آئے گا۔ایسے پرتعیش بستروں پر سونے كا موقع بھی تو بار بار نہیں ملے گا
، اور موقع كیوں گنوایا جائے۔ مچھیرے نے بستر پر سر ركھا اور بس پھر وہ گہرى سے گہرى نیند میں ڈوبتا چلا گیا۔ اُٹھ ۔ اُٹھ اے احمق مچھیرے، تجھے دی ہوئی مہلت ختم ہو چكی ہے۔ہائے وه كیسے؟جی، تو نے ٹھیک سنا ہے، نكل ادھر سے باہر كو۔مجھ پر مہربانی كرو، مجھے كافی وقت نہیں ملا، تھوڑى مہلت اور دو۔۔۔آه۔۔ آه۔۔۔ تجھے اس خزانے میں آئے 6 گھنٹے گزر چكے ہیں، اور تو اپنی غفلت سے اب جاگنا چاہتا ہے اور ہیرے جواہرات اكٹھے كرنا چاہتا ہے كیا؟تجھے تو یہ سارا خزانہ سمیٹ لینے كیلئے كافی وقت دیا گیا تھا تاكہ جب ادھر سے باہر نكل كر جاتا تو ایسا بلكہ اس سے بھی بہتر کھانا خرید پاتا اور اس جیسے بلكہ اس سے بھی بہتر آسائش والےبستر بنواتا لیكن
تو احمق نكلا كہ غفلت میں پڑ گیا۔تو نے اس كنویں كو ہی سب كچھ جان لیا جس میں رہتا تھا۔باہر نكل كر سمندروں كی وسعت دیكھنا تونے گواره ہی نہ کی۔نكالو باہر اس كو۔نہیں، نہیں،مجھے ایک مہلت اور دو، مجھ پر رحم كھاؤ (یہ قصہ تو ادھر ختم ہو گیا ہے) لیكن عبرت حاصل كرنے والی بات ابھی ختم نہیں ہوئی۔اُس قیمتی موتی كو پہچانا ہے آپ لوگوں نے؟وه تمہارى روح ہے اے ابن آدم، اے ضعیف مخلوق!!یہ ایسی قیمتی چیز ہے جس كی قیمت كا ادراك بھی نہیں کیا جا سكتا۔اچھا، اُس خزانے كے بارے میں سوچا ہے كہ وه كیا چیز ہے؟جی، وه دنیا ہے۔سكی عظمت كو
دیكھ دیکھ اسكے حصول كیلئے ہم كیسے مگن ہیں؟س خزانے میں ركھے گئے ہیرے جواہرات۔۔۔!!!و تیرے اعمال صالحہ ہیں اور وه پر تعیش و پر آسائش بستر،وه تیرى غفلت ہیں اور وه كھانا-پینا،وه شہوت ہیں اور اب۔۔ اے مچھلی كا شكار كرنے والے دوست۔۔اب بھی وقت ہے كہ نیندِ غفلت سے جاگ جا اور چھوڑ دے اس پر تعیش اور آرام ده بستر كو۔۔۔اور جمع كرنا شروع كر دے ان ہیروں اور جواہرات كو جو کہ تیرى دسترس میں ہی ہیں۔اس سے قبل كہ تجھے دى گئی 6 گھنٹوں كی مہلت ختم ہو جائے۔تجھے محض حسرت ہی ره جائے گی۔خزانے پر مأمور سپاہیوں نے تو تجھے ذرا سی بھی اور زیاده فرصت نہیں دینی،اور تجھے ان نعمتوں سے باہر نكال دینا ہے جن میں تو ره رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *